Don't Miss
graphic2

اخبار

فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ منتخب

کراچی میں اتوار کو ہونے والے انٹر پارٹی الیکشن کے نتیجے میں فاروق ستار ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ منتخب ہوگئے ہیں۔انہوں نے ساڑھے نو ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔  انٹرا پارٹی الیکشن فاروق ستار کی جانب سے اتوار کوکراچی اور حیدرآباد میں کرایاگیا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے ۔ انٹرا پارٹی الیکشن کا مقصد کنوینر، ڈپٹی کنوینرز، رابطہ کمیٹی کے ارکان اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سمیت دیگر عہدوں کے لئے افراد کا انتخاب تھا لیکن فاروق ستار کا مخالف گروپ جسے حرف عام میں ’بہادرآباد گروپ ‘ بھی کہا جاتا ہے اس کے ترجمان نے انٹر پارٹی الیکشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ فاروق ستار گروپ کی جانب سے فراہم  کردہ معلومات کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے رابطہ کمیٹی کے 35 اراکین اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 40 سے زائد ممبران کا انتخاب کرنا تھا جس کے لئے اتوار کو ووٹ ڈالے گئے ۔ اطلاعات کے مطابق رابطہ کمیٹی کے اراکین میں سے جس رکن کو بھی سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہونے تھے ، وہی  کنونیر شپ یعنی پارٹی کی سربراہی سنبھالے گا۔انتخابات کے نتیجے میں فاروق ستار نے سب سے زیادہ ووٹ لئے اور یوں وہ ایک مرتبہ پھر پارٹی سربراہ منتخب ہوگئے ۔  الیکشن کے نتائج کا اعلان اتوار کو نصب شب کے بعد کیا گیا ۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے اس نتیجے کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جائے گا۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے لئے جو بیلٹ پیپراستعمال کیا گیا اس میں ڈاکٹر فاروق ستار ، کامران ٹیسوری ، خواجہ سہیل منصور، قمر منصور، مزمل قریشی، علی رضا عابدی ، شاہد پاشا، ساجد احمد اور  صلاح الدین شیخ کے نام تو درج تھے تاہم پارٹی کے سینئر اراکین جیسے عامرخان ، کنور نوید جمیل، نسرین جلیل،  وسیم اختراور خالد مقبول صدیقی کا نام درج نہیں تھا۔ ادھر ترجمان بہادرآباد گروپ کے جاری کردہ بیان کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن غیر قانونی اور غیر تنظیمی ہیں ۔ پارٹی آئین کے مطابق رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت ہی پالیسی فیصلے کرسکتی ہے۔ 22 اگست کے بعد بھی کسی فرد کو اکیلے اہم فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ ترجمان نے حیدرآباد ژونل کمیٹی کو بھی تحلیل کئے جانے کی تصدیق کی۔ترجمان رابطہ کمیٹی بہادرآباد کے مطابق تحلیل کئے جانے کی وجہ پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کی تصدیق

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پاکپتن کی معروف روحانی شخصیت بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کرلی ہے. 64 سالہ عمران خان کی تیسری اور48 سالہ بشریٰ بی بی کی یہ  دوسری شادی ہے۔  عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح مفتی سعید نے اتوار کو لاہور میں پڑھایا جس میں کپتان کے قریبی رشتہ دار اور ساتھیوں عون چوہدری اور زلفی بخاری نے جب کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے بھی کچھ عزیز و اقارب نے شرکت کی. ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے عمران خان کی تیسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان نکاح اتوار کو مختصر اور سادہ سی تقریب میں ہوا جس میں دونوں جانب سے مخصوص رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ٹوئٹر پر عمران خان کی تیسری شادی کی تصاویر جاری کی گئی ہیں اور انھیں شادی کی مبارک باد دی گئی ہے۔  پاکستان تحریک انصاف کی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بشریٰ مانیکا نے ٹوئٹر پر لکھا’اللہ کے فضل و کرم سے ہم ایک نئی زندگی شروع کر رہے ہیں۔آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما نعیم الحق نے عمران خان کی شادی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ  پہلے عمران خان نے بشریٰ بی بی کوشادی کا پیغام بھیجا تھا اور اب شادی ہوگئی ہے۔  انشا اللہ عمران خان کا نکاح پورے ملک کے لیے مبارک ثابت ہوگا۔  عمران خان کی شادی کے حوالے سے خبریں گزشہ ماہ سامنے آئی تھیں۔  تاہم پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ عمران خان نے ابھی بشریٰ بی بی کو شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے  عمران خان کی شادی کو ان کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا  کہ اگر مانیکا  بشریٰ ان کی شادی کی پیشکش کو قبول کرتی ہیں تو عمران خان باقاعدہ طور پر عوام کو اس سے آگاہ کریں گے۔  تب تک ہم میڈیا سے التماس کرتے ہیں کہ وہ دونوں خاندانوں خاص طور پر بچوں کو وقت دیں۔ عمران خان نے پہلی شادی 16 مئی 1995 کو جمائما خان سے کی جو 9 برس بعد 22 جون 2004 کو طلاق پر ختم ہوئی۔ ان کی دوسری شادی ٹی وی اینکر ریحام خان سے ہوئی جو بمشکل  10 ماہ چل پائی۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

سنیما کی بحالی ، اینی میٹیڈ فلموں کا مستقبل بھی روشن

کراچی میں کئی فلم ساز کمپنیوں اور اشتہاری کمپنیوں سے وابستہ اداروں نے اینیمیشن اور گرافکس کی جدید ترین سہولیات کے آراستہ اسٹوڈیوز قائم کر لئے ہیں جہاں دن رات کام ہو رہا ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

آسٹریلیہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے نئے وینیو کی تلاش

متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈ نے ان سیریز کیلئے اپنے وینیوز کی فراہی سے انکار کر دیا ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

سوات میں چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کا احتجاج

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اب سوات میں امن آ چکا ہے اور شہر کا تمام تر انتظام سول انتظامیہ کے حوالے کیا جانا چاہئیے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

‘واچ لسٹ میں نام پاکستانی معیشت کے لیے مضر ہو سکتا ہے’

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا چھ روز اجلاس اتوار کو پیرس میں شروع ہوا جس میں دیگر امور کے علاوہ اس تحریک کا بھی جائزہ لیا جائے گا جس میں پاکستان کو ان ملکوں کی فہرستوں میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جومبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کو روکنے میں ناکام رہے۔ واضح رہے کہ یہ تجویز امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور بعد ازاں جرمنی اور فرانس نے بھی اس کی تائید کر دی۔ حالیہ سالوں میں بعض ایسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی نا کرنے کی وجہ سے پاکستان کو تنقید کا سامنا رہا ہے جن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں۔  بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پاکستان کو دہشت گردی کی فنانسنک سے متعلق واچ لسٹ میں شامل کر دیتا ہے تو اس کے پاکستان کے تشخص اور معیشت پر شدید اثرات ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاجر برادری کے ایک نمائندے اور معروف کاروباری شخصیت زبیر موتی والا نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے پاکستان کی برآمدات پر بھی مفنی اثر پڑ سکتا ہے۔  " اس کی وجہ سے پاکستان کو اقتصادی مشکلات پیش ہو سکتی ہیں اور جو ملک یہ فیصلہ کریں گے یہ 35 ملکوں پر مشتمل تنظیم ہے اور ان میں زیادہ وہ ملک ہیں جو ہمارے بڑے تجارتی شراکت دار اور ہماری مارکیٹ ہیں ان میں یورپی یونین کے ممالک اور امریکہ بھی شامل ہے اور امریکہ پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اس کی وجہ سے پاکستان کو براہ راست نقصان ہو سکتا ہے۔ " دوسری طرف پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو اس واچ لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔ ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تحریک مغربی ملکوں کی طرف سے بعض مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ تمام شدت پسند تنظمیوں کی سرگرمیوں کی موثر نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور حال ہی میں پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق قانون میں ترمیم کی ہے جس کے تحت اب ان تنظیموں اور عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے گی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی تعزیرات عائد کر چکی ہے۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی برادری کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر ان تنظیموں کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھنا ہوں گی جو نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہونے کی کوشش کر سکتی ہے۔ سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اپنے طور پر کوشش تو کرتا آرہا ہے لیکن دہشت گردی کےلیے فنڈز اور وسائل کی نگرانی کے لیے ملک کے مالیاتی ادورں میں کئی اصلاحات وضع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

افغان پناہ گزینوں سے متعلق پاکستان کا بیانیہ تسلی بخش نہیں: مبصرین

پاکستان کی طرف سے اپنے ہاں موجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے مطالبات میں حالیہ مہینوں میں شدت آئی ہے لیکن مبصرین اس معاملے پر اسلام آباد کے موقف کو تسلی بخش قرار نہیں دیتے اور ان کے بقول اس ضمن میں کسی بھی طرح کا دباؤ پاکستان کے لیے سیاسی و سفارتی لحاظ سے سود مند ثابت نہیں ہو گا۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یہ واپسی کلیدی حیثیت رکھتی ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان میں رہنے والے پناہ گزینوں کو آئندہ دو سالوں میں واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہفتہ کو جرمنی کے شہر میونخ میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے منظم ٹھکانے موجود نہیں لیکن پہاڑوں، سرحدی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں میں ان کی باقیات کی موجودگی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ وقت ہے کہ ان پناہ گزینوں کو وقار کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کا یہی واحد راستہ ہے کہ کوئی بھی ہماری میزبانی اور سرزمین کو افغانستان میں فساد کے لیے غلط استعمال نہ کر سکے۔" اسلام آباد یہ کہتا آیا ہے کہ دہشت گرد افغان پناہ گزین کیمپوں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جہاں سکیورٹی فورسز کے لیے کارروائی کرنا مناسب نہیں۔ اس موقف میں گزشتہ اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور خطے سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد شدت آئی ہے۔ ادھر افغانستان کے صدر اشرف غنی کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں موجود اپنے پناہ گزینوں کو آئندہ دو سالوں میں وطن واپس لائے گا۔ کابل میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے ان الزامات کا خاتمہ ہو جائے گا کہ یہ مہاجرین خطے میں عدم استحکام کی ایک وجہ ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر اعجاز خٹک کے خیال میں پناہ گزینوں سے متعلق پاکستان کے اس موقف کو بین الاقوامی برادری شاید تسلیم نہ کرے اور اس سے معاملہ مزید الجھنے کا خدشہ بھی ہے۔ اتوار کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین اور انتہا پسندی کے معاملے کو "مکس کرنا میرے خیال میں بہت غلط سیاست ہے نہ اس کو کوئی مانتا ہے۔ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو اس میں شامل کرنا معاملے کو الجھانا اور خراب کرنا ہے۔۔۔اس سے آپ مہاجرین کے لیے تکلیف بڑھا دیتے ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں، اس کا سفارتی و سیاسی فائدہ نہیں مل سکتا۔" پالیسی سازی خصوصاً مہاجرین سے متعلق امور کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم "کوڈ" کے عہدیدار دلاور خان کہتے ہیں کہ سلامتی کے خطرات کو پناہ گزینوں کے ساتھ جوڑنے کی بجائے جو شکوک و شہبات سکیورٹی اداروں کو ہیں ان کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ "ہماری سکیورٹی کا جو مسئلہ پچھلے کئی سالوں سے درپیش ہے اس میں اگر مہاجر ہو یا کوئی قانونی ویزے پر آیا غیر ملکی بھی ہو اگر اس سے سکیورٹی ایجنسیز کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو اس سے بھی اس قانون کے تحت نمٹا جائے گا جس سے یہ پاکستانیوں سے نمٹا جاتا ہے۔۔اگر مہاجریں کی بات کرتے ہیں تو اگر سکیورٹی فورسز سمجھتی ہیں کہ اس میں کچھ سلامتی سے متعلق عناصر کیمپوں میں ہیں تو اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے۔" پاکستان میں تقریباً 14 لاکھ سے زائد افغان باشندے باقاعدہ اندراج کے ساتھ بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جب کہ لاکھوں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ حکومت نے پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں گزشتہ ماہ ہی مزید دو ماہ کی توسیع کی تھی۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

کار چوری کے انسداد کے لیے نئی موبائل ایپ متعارف

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کار چوری کی روک تھام کے لئے موبائل اپلیکیشن متعارف کروا دی ہے۔ موبائل ایپ کو 'پارک سیکیور' کا نام دیا گیا ہے اور اسے پولیس ملازمین کے موبائلز میں فعال کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق محکمے کے اہلکاروں نے نجی بینک کے اشتراک سے شروع کی گئی ایپ کے ذریعے ابتدائی طور پر شہر کے اتوار بازاروں میں کام شروع کردیا ہے اور امید ہے اس اقدام سے کار چوری کے انسداد اور شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ پولیس حکام کے مطابق پارکنگ میں گاڑیوں کا داخلہ اور خروج اب کارڈ اسکیننگ سے مشروط ہوگا۔  اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر خالد اعوان نے بتایا کہ وفاقی پولیس کی جانب سے ڈیجیٹیلائزیشن کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس سسٹم سے ہر داخل اور خارج ہونے والی گاڑی کا ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑی چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ نئے سسٹم سے بازاروں میں کار چوری سو فیصد رک جائے گی۔  وفاقی پولیس کے اس اقدام پر شہری اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک شہری محمد اقبال نے بتایا کہ نیا سسٹم بہت اچھا ہےاور "اس سے گاڑیوں کی سیکورٹی ہو گی یہ ہماری سیفٹی کی ایپ ہے۔ پولیس اہلکار کارڈ دیتے ہیں اس سے چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی پولیس کی جانب سے اچھا اقدام ہے۔" شہریوں کا کہنا ہے پولیس اگر وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے فرائض میں شامل کرتی چلی جائے تو عوام کو کئی جرائم سے چھٹکارا ملتا چلا جائے گا۔  گاڑیوں کی چوری کی روک تھام کے لیے اسلام آباد پولیس کا اینٹی کارلفٹنگ سیل بھی کام کررہا ہے۔ گزشتہ سال جڑواں شہر راولپنڈی میں موٹرسائیکل اور گاڑیاں چھننے و چوری کی کل 1263 جبکہ 2016 میں 1060 وارداتیں ہوئیں۔ وفاقی دارالحکومت میں 2017 میں گاڑی چوری کی 430 اور 2016 میں 704 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

فلوریڈا کے اسکول میں فائرنگ کا واقعہ، ٹرمپ کی ایف بی آئی پر سخت تنقید

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ فلوریڈا اسکول میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی طرف سے بھیجے گئے کئی اشاروں کو نا سمجھ سکا اور وہ (ایف بی آئی حکام) "بہت زیادہ وقت اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش میں صرف کر رہے ہیں کہ روسیوں نے ٹرمپ مہم کے ساتھ ساز باز کی تھی۔" ٹرمپ نے ہفتہ کو دیر گئے ٹوئٹر پر کہا کہ "یہ قبول نہیں ہے ۔ وہ بہت زیادہ وقت اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کر رہے ہیں کہ روسیوں نے ٹرمپ مہم کے ساتھ ساز باز کی۔ کوئی ساز باز نہیں تھی۔ اپنے بنیادی (کام) کی طرف توجہ دیں اور ہم سب کے لیے فخر کا باعث بنیں۔" یف بی آئی کو گزشتہ ماہ یہ اشارہ ملا تھا کہ فلوریڈا اسکول میں فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص "(دوسروں) کو مارنے کی خواہش" اور گن حاصل کرنا چاہتا تھا اور شاید وہ ممکنہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ تاہم ایف بی آئی نے جمعہ کو کہا کہ اس کے اہلکار اس معاملے کی تحقیقات کرنے میں ناکام  رہے۔ ایف بی آئی نے تسلیم کیا کہ اس سے خفیہ اطلاع کے معاملے میں کوتاہی ہوئی ہے جس پر اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس کی سرزنش کی اور دوسری طرف فلوریڈا کے رپبلکن گورنر رک اسکاٹ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک مسلح نوجوان نے فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کر کے 17 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص اِسی اسکول کا ایک سابق طالب علم تھا، جسے انضباطی بنیاد پر تعلیمی ادارے سے نکالا گیا تھا اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

ایران کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، 66 افراد ہلاک

ایران کا ایک مسافر طیارہ ملک کے جنوبی پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس پر سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ فضائی کمپنی 'آسمان' کے ایک ترجمان تقی طباطبائی نے بتایا کہ اتوار کو یہ مسافر طیارہ 440 میٹر بلند پہاڑ دنا پر گر کر تباہ ہوا۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر ایک بچے سمیت 60 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ روسی ساختہ 'اے ٹی آر-72' مسافر طیارہ تہران سے جنوبی شہر یاسوج جا رہا تھا۔ اس حادثے سے متعلق تاحال کوئی مصدقہ اطلاع تو سامنے نہیں آئی لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق بظاہر یہ جہاز موسم کی خرابی کا شکار ہوا۔ دہائیوں تک پابندی کی زد میں رہنے والے ملک ایران کی فضائی سروس میں شامل طیارے خاصے پرانے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ایسے متعدد فضائی حادثات دیکھنے میں آئے ہیں۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow