Don't Miss
graphic2

اخبار

حوصلہ مند خواتین ’’درخشاں ستارے ہیں‘‘: ملانیا ٹرمپ

ویتنام سے تعلق رکھنے والی نامور خاتون، نگوین نوک نو کنہ قید کی صعوبتیں کاٹ رہی ہیں، اس لیے تقریب میں شریک نہ ہوسکیں۔ وہ ماحولیات سے متعلق سرگرم کارکن ہیں۔ اِس ایوارڈ کا اجرا 2007ء میں کیا گیا؛ اور اب تک 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والی 100 سے زائد خواتین کو دیا جا چکا ہے بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

سفید فام امریکیوں میں ہیروئن کی لت میں پانچ گنا اٖضافہ

ڈاکٹر مارٹنز کا کہنا ہے کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے دس برسوں کے دوران ہیروئن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہےاور اس میں زیادہ افراد کم آمدنی اور تھوڑی تعلیم کے حامل سفید فام نوجوان ہیں۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

قابل اعتراض مواد ہٹانا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، فیس بک

فیس بک  کی انتظامیہ نے کہاہے کہ اگر ہمیں اپنے صفحات پر کسی جانب سے شکایت ملتی ہے تو ہماری گلوبل کمیونٹی کی ٹیم اس کا فوری جائزہ لیتی ہے اور اگر یہ مواد ہمارے ضابطوں کے خلاف ہو تو ہم اسے فیس بک سے ہٹا دیتے ہیں یا مخصوص علاقوں میں اس کی رسائی روک دیتے ہیں۔ وی او اے نے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے بعد کہ فیس بک نے پاکستانی حکومت کی شکایت پر توہین مذہب سے متعلق زیادہ تر مواد اپنے صفحات سے ہٹا دیا ہے اور ان کی ایک ٹیم تحقیقات میں مدد کے لیے پاکستان آ رہی ہے، فیس بک کو ایک ای میل کی، جس کے جواب میں فیس بک کی نمائندہ نے لکھا ہے کہ ہماری پالیسیاں ہماری  عالمی کمیونٹی کے معیاروں پر مبنی ہیں جو یہ وضاحت کرتے ہیں کہ لو گ فیس بک پر کیا شیئر کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسا مواد دیکھتا ہے جس کے متعلق اس کاخیال ہے کہ وہ ہماری پالیسیوں سے انحراف ہے تو وہ ہمیں اس کی شکایت کر سکتا ہے۔ جب ہمیں کسی چیز کے متعلق رپورٹ ملتی ہے، تو ہماری ایک گلوبل ٹیم ان شکایات کا فوری جائزہ لیتی ہے اور اگر وہ ہمارے معیاروں کے خلاف ہوتے ہیں تو ہم اس مواد کو فیس بک  کے تمام حصوں سے ہٹا دیتے ہیں۔ وائس آف امریکہ نے فیس بک سے پوچھا تھا کہ ہم ان خبروں کی تصدیق کرنا چاہیں گے کہ آیا فیس بک سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی تحقیقات میں پاکستانی حکام کی مدد کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیج رہا ہے؟ فیس بک کی ٹیم کب پاکستان پہنچ رہی ہے یا پہنچ چکی ہے۔ اس ٹیم کے کتنے ارکان ہیں۔ فیس بک کی ٹیم کی قیادت کون کررہاہے؟ کیا وہ واقعی اس طرح کی کسی تفتیش میں پاکستانی حکام کی مدد کررہے ہیں؟ وہ پاکستانی حکام کو کس قسم کی مدد دے چکے ہیں یا مدد دینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فیس بک کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ہم کسی  حکومت کے ساتھ مخصوص بات چیت یا ملاقاتوں پر تبصرہ نہیں کریں گے لیکن عموماً ہم سرکاری عہدے داروں کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنے دروازے کھلےرکھتے ہیں۔ ان کی ای میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کہ پاکستانی وزیر نے کیا کہا ہے اور نہ ہی ہم حکومت کے مخصوص ردعمل  کی بات کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس حوالے سے آپ کو اس کے پس منظر سے متعلق معلومات فراہم کررہے ہیں جو ممکنہ طور پر آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔ فیس بک نے  قابل اعتراض مواد پر اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے  کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی مواد کسی مخصوص ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو، لیکن وہ فیس بک کے کمیونٹی معیاروں سے متصادم نہ ہو ۔ اگر ہمیں حکومت سے اس طرح کی درخواست موصول ہوتی ہے  تو ہم بہت احتیاط سے اس کا جائزہ لیتے ہیں اور ہم متعلقہ  ملک میں اس مواد تک رسائی روک دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہالوکاسٹ سے انکار جرمنی میں غیرقانونی ہے۔ اگر ہمیں اس کے بارے میں شکایت ملتی ہے تو ہم جرمنی کے لوگوں کے لیے اس مواد کی رسائی روک دیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی مواد توہین مذہب کے مخصوص قوانین کے تحت صرف پاکستان میں غیر قانونی ہے تو ہم اس معاملے سے اسی انداز میں نمٹیں گے۔ فیس بک نے وائس آف امریکہ کے نام اپنے جواب میں کہا ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا براہ راست حوالہ دینا چاہتے ہیں تو آپ ہماری حکومتوں کی درخواستوں سے متعلق رپورٹ کو پیش نظر رکھ سکتے ہیں جس کے مطابق جب حکومتیں یہ سمجھیں کہ انٹرنیٹ پر موجود کسی چیز سے ان کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ ہم سے رابطہ کر کے ہمیں اس مواد تک رسائی روکنے کے لیے کہہ سکتی ہیں۔ جب ہمیں اس طرح کی کوئی درخواست ملتی ہے تو ہم یہ تعین کرنے کے لیے اس کی جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ آیا اس مخصوص مواد سے وہاں کے مقامی قوانین کی  خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اگر ہم یہ تعین کرلیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہے تو پھر ہم متعلقہ ملک یا علاقے میں اس کی رسائی روک دیتے ہیں۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

امدادی پروگراموں کی مجوزہ کٹوتیوں پر امریکی سینیٹ میں سماعت

قحط کےبارے میں پیشگی خبردار کرنے والے نظاموں کے نیٹ ورک نے رپورٹ دی ہے کہ اس سال 45 ملکوں کے لگ بھگ 7 کروڑ  لوگوں کو خوراک کی ہنگامی امداد کی ضرورت ہو گی۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

ہیلمند: امریکی میرینز کی تعیناتی طالبان قبضہ خالی کرانے کا موجب بنے گی

صوبائی گورنر، حیات اللہ حیات نے بتایا ہے کہ قومی سلامتی پر مامور افواج مستعد اور تیار ہیں تاکہ اس سال طالبان کو شکست دی جائے، جنھوں نے پہلے ہی لشکرگاہ کے صوبائی دارالحکومت اور قریبی اضلاع میں طالبان کا صفایا کر دیا ہے بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

اسرائیلی پولیس اہل کار نے فلسطینی عورت کو گولی مار دی

اکتوبر 2015 سے اب تک مختلف اوقات میں تشدد کے اکا دکا واقعات کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کے علاقوں میں کم ازکم 241 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

محمد عرفان پر ایک سال کی پابندی عائد، 10 لاکھ روپے جرمانہ

اس مدت میں 6 ماہ کے لیے وہ میدان سے باہر رہیں گے۔ ان کا سینٹرل کنٹریکٹ جس کے تحت انہیں پانچ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، وہ بھی معطل رہے گا بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

ماہ رخ جبین، رسم و رواج کی پابندیوں کو توڑ کر آگے بڑھنے والی باہمت صحافی

پاکستان کے قبائلی علاقے ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت زیادہ قدامت پسند تصور کئے جاتے ہیں ۔عرصے سے دہشت گردی کے شکار ان علاقوں میں عام طور سے خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا بھی  ایک جدو جہد سے کم نہیں اس کی بڑی وجہ صدیوں پرانی روایات بھی ہیں تاہم قدامت پسند رسم و رواج کے با وجود ایسی خواتین بھی ہیں جو تمام تر مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ان میں سے ایک کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والی  ماہ رخ جبین بھی ہیں۔ جنہوں نے صحافت کے شعبے کا انتخاب کیا اور اپنے علاقے کی واحد صحافی خاتون ہیں جو ایک مقامی نیوز نیٹ ورک اور ریڈیو نیوز وائر کے لئے ایک نمائندے کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ماہ رخ جبین کہتی ہیں کہ انہوں نے  بچپن سے قبائلی علاقوں کی خواتین کے مسائل کو دیکھا ہے۔  وہ  بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف مشکلات کا سامنا کر کے آگے آتی رہی ہیں۔ ان خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے   میں (جبین)  ان کو انکے حقوق دلانا چاہتی ہوں ، میں ان کی آواز بننا چاہتی ہوں میرے خیال میں  صحافت کا شعبہ اس مقصد میں مددگار ہو سکتا ہے  اس لئے میں نے اس شعبے کا انتخاب کیا ۔  ماہ رخ  نے بتایا کہ “ شروع میں گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی  رپورٹ بنانا، انٹرویوز کرنا یہ ساری چیزیں میرے لئے مشکل تھی کیونکہ یہاں پر پردے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اس لئے میں انٹرویوز کے لئے اپنے بھا ئی کو گھر سے باہر بھیجتی تھی ۔اور خود گھر میں بیٹھ کر ان کی رپورٹ بناتی تھی۔” لیکن اب وہ یہ سب کچھ خود کرتی ہیں ،  گھر سے باہر جاتی ہیں  اور خود رپورٹنگ کرتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے کام کے ذریعے کرم ایجنسی سمیت  شمالی وزیر ستان عام رپورٹنگ کے علاوہ  خواتین کے مسائل کے بارے میں بھی رپورٹنگ کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  “میرے  خاندان والوں نے  میری بہت حوصلہ افزائی کی اور ان کی بدولت میں آگے بڑھی۔” قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر آواز اٹھانے والے سینیئر صحافی سیلاب محسود کہتے ہیں کہ حال ہی میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 25 خواتین نے  پشاور کے شعبہ ذرائع ابلاغ  سے ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ جو  کے ایک حوصلہ افزا بات  ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شعبے میں قبائلی خواتین کے لیے مشکلات بھی ہیں اور   روایات کی پابندیاں  بھی لیکن حالات اور زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے یہ خواتین اس میدان میں  اپنا نام ضرور بنائیں گی۔ ماہ رخ جبین کی درخواست پر ان کی تصویر شائع نہیں کی گئی بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

شام: محصور شہروں سے انخلا کا نیا سمجھوتا طے

کئی برسوں سے، باغیوں نے فوا اور کفریہ کےشمال مغربی قصبہ جات کو محصور بنا رکھا ہے، جب کہ حکومت نواز افواج نے دمشق کے قریب زبدانی اور مدیہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

افغانستان 200 ہیلی کاپٹر اور طیارے حاصل کرے گا، حکمتِ عملی تیار

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان، دعوت وزیری نے بتایا ہے کہ ملک کی سلامتی افواج کی استعداد بڑھانے کے لیے چار سالہ حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر، توقع ہے کہ افغانستان 200 ہیلی کاپٹر اور دیگر طیارے حاصل کرے گا، جس کا مقصد طالبان کی سرکشی کو شکست دینا ہے۔ وزیری نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی کابل میں آمد کے دوران اِس ایجنڈے پر گفتگو  متوقع ہے۔ دورے سے قبل، افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے بدھ کے روز اپنے امریکی ہم منصب ایچ آر مک ماسٹر کے ساتھ ایک گھنٹے کی وڈیو کانفرنس کی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی سلامتی کے امور میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔ امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا یہ افغانستان کا پہلا دورہ ہے، جس دوران ملک کے ساتھ امریکی اعانت جاری رکھنے کے معاملے پر گفت و شنید ہوگی۔ یہ بات افغان پارلیمان کے اسپیکر، عبد الرؤف ابراہیمی نے بتائی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، روس، ایران اور پاکستان موضوعِ گفتگو ہوں گے ایک اور افغان ذریعے نے بتایا ہے کہ وفد افغانستان میں روس، ایران اور پاکستان کے ملوث ہونے کے معاملے پر بھی بات چیت کرے گا۔ ایسے میں جب ایک طویل مدت سے امریکی حکام پاکستان پر طالبان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، حالیہ دِنوں وہ افغانستان میں روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر پریشان ہیں۔ امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ، جان مکین نے فروری میں منعقدہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ ایران طالبان کو ہتھیار اور رقوم فراہم کر رہا ہے، جب کہ روس ’’افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے، تاکہ طالبان کو تقویت ملے اور امریکہ کو نقصان پہنچے‘‘۔ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر، جنرل جان نکلسن نے اُسی کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ  ’’افغانستان میں امن اور استحکام کے حصول میں مداخلت کرنے والے بیرونی عناصر میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ روسی مداخلت ’’مزید گنجلک ہو چکی ہے‘‘، جب کہ ایران ’’مغربی افغانستان میں طالبان کی براہِ راست مدد کر رہا ہے‘‘۔ اپریل میں روس افغانستان پر ایک علاقائی اجلاس کا انعقاد کرنے والا ہے جس میں  امریکہ کو مدعو کیا گیا تھا، لیکن اُس نے شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ خارجہ امور کی وزارت کے مطابق، افغانستان ابھی اس بات پر غور کر رہا ہے آیا وہ اجلاس میں شریک ہوگا۔ خصوصی فورسز کے استعمال میں اضافہ افغان پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے، وزیر دفاع، جنرل عبد اللہ حبیبی نے بتایا کہ افغانستان کے اِس چار سالہ سلامتی منصوبے کے تحت خصوصی افغان فورسز کی تعداد دوگنا کر دی جائے گی، جب کہ خصوصی فورسز کے ڈویژن کے دستے کی سطح بڑھائی جائے گی۔ طالبان کے خلاف لڑائی میں افغان سکیورٹی کی حربی طاقت میں خصوصی افواج کا کردار انتہائی کامیاب نوعیت کا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں چھاتہ بردار فوج اتاری جائے گی، جس سے سرکشوں کو یہ موقع میسر نہیں آئے گا کہ وہ بارودی سرنگیں بچھا کر بھاگ نکلیں۔ منصوبے کا مقصد افغان سکیورٹی افواج کو بڑھاوا دینا اور اُن کی خواندگی پر دھیان مرتکز رکھنا اور انٹیلی جنس اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق، فضائی فوج کی نفری میں اضافہ، جس میں نہ صرف طیاروں کی تعداد میں اضافہ شامل ہوگا، بلکہ ریڈار نظام اور دیگر حصوں میں اضافہ لانے کا عمل 2020ء تک مکمل ہوگا۔ توقع ہے کہ نیٹو اور یورپی یونین کے وفود بھی آئندہ چند ہفتون کے دوران افغانستان کا دورہ کریں گے۔   بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow