Don't Miss
graphic2
پاکستان کو درپیش ڈیجیٹل خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے ملک کے پہلے قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کا افتتاح ایئریونیورسٹی اسلام آباد میں پیر کو کیا گیا۔ نیشنل سینٹر فار سائبر سیکیورٹی کے قیام کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باہمی اشتراک کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ قومی مرکز اسلام آباد میں ائیر یونیورسٹی میں قائم کیا گیا ہے جب کہ اس منصوبے کے تحت ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی خصوصی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دنیا سے قدم ملا کر آگے چلنے کے لیے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی بہت اہم ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ سکیورٹی خدشات تیز رفتار ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں کیوں کہ مختلف ’ایپلی کیشنز‘ کے استعمال کے حوالے سے لوگوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سال اگست میں کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے سائبر کرائم قانون منظور کیا گیا تھا، جس پر انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی تنظمیوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ اس سے انٹرنیٹ صارفین کی آزادی محدود ہو جائے گی۔ سائبر سکیورٹی کے چیلنج اور اُن سے نمٹنے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں اب کورس بھی پڑھائے جا رہے ہیں، رواں سال ہی ایئر یونیورسٹی کے زیراہتمام چار سالہ بیچلرز ڈگری برائے سائبر سکیورٹی بھی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ مہارت کی کمی کے سبب پاکستان میں حقیقی سائبر حملوں کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے اور بظاہر اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ قومی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

پاکستان میں پہلے سائبر سکیورٹی سینٹر کا افتتاح

پاکستان کو درپیش ڈیجیٹل خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے ملک کے پہلے قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کا افتتاح ایئریونیورسٹی اسلام آباد میں پیر کو کیا گیا۔ نیشنل سینٹر فار سائبر سیکیورٹی کے قیام کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باہمی اشتراک کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ قومی مرکز اسلام آباد میں ائیر یونیورسٹی میں قائم کیا گیا ہے جب کہ اس منصوبے کے تحت ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی خصوصی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دنیا سے قدم ملا کر آگے چلنے کے لیے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی بہت اہم ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ سکیورٹی خدشات تیز رفتار ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں کیوں کہ مختلف ’ایپلی کیشنز‘ کے استعمال کے حوالے سے لوگوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سال اگست میں کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے سائبر کرائم قانون منظور کیا گیا تھا، جس پر انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی تنظمیوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ اس سے انٹرنیٹ صارفین کی آزادی محدود ہو جائے گی۔ سائبر سکیورٹی کے چیلنج اور اُن سے نمٹنے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں اب کورس بھی پڑھائے جا رہے ہیں، رواں سال ہی ایئر یونیورسٹی کے زیراہتمام چار سالہ بیچلرز ڈگری برائے سائبر سکیورٹی بھی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ مہارت کی کمی کے سبب پاکستان میں حقیقی سائبر حملوں کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے اور بظاہر اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ قومی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ بشکریہ خبریں – وائس آف امریکہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow