Don't Miss
graphic2

چیف جسٹس صاحب ذراسوچئے۔۔۔ تحریر:عامربٹ

ترقی یافتہ قومیں اپنے شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں اہم کرداراداکرتی ہیں مگرنئے قوانین کے ذریعے انہیں وہ سہولیات فراہم کرتی ہیں جس سے وہ اپنے ملک سے پیار کریں اورملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں پڑوسی ملک بھارت ،ایران ،بنگلہ دیش دیارغیر میں بسنے والے اپنے شہریوں کو اپے ملک میں سرمایہ کاری کرنے اورانہیں اپنے ملک میں کام کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ وہ بیرونی دنیا کی لگژری زندگی سے نکل کر اپنی دھرتی ماں کی خدمت کرسکیں باوثوق ذرائع کے مطابق ہزاروں ڈاکٹرز،انجینئرزاورپڑھا لکھا طبقہ برطانیہ یورپ کوچھوڑکر بھارت چلاگیا جہاں انہیں نہ صرف مکمل سیکورٹی دی جاتی ہے بلکہ انہیں پرکشش سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ ان کا ملک ترقی کرے اوروہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکیں۔جب کہ دوسری طرف پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے کورٹس کچہری میں دھکے لگوائے جاتے ہیں۔ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیاجاتاہے انصاف تو درکنار پاکستان سے ہی مارپیٹ کر باہر نکال دیاجاتا ہے ۔عدالتوں میں انہیں رسوا کیاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی مایوسی کا شکاررہتے ہیں اورپاکستان کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں ماضی کی حکومتوں نے اووسیز پاکستانیوں کو سہانے خواب دکھا ئے لیکن عمل نہ کیا موجودہ حکومت نے اووسیز کمیشن پنجاب کی بنیاد اسی لیے رکھی تاکہ مایوسی کہ شکارطبقہ کو انصاف دلوایاجاسکے اگریہ انصاف کا کام عدالتوں سے ملاہوتاتواووسیز کمین کی ضرورت نہ تھی لیکن پنجاب حکومت نے عدالتوں پر سے بوجھ کم کرنے کے لیے اووسیز کمیشن کا قیام عمل میں لایا اوراس کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جو صادق اورامین ہی نہیں سمند رپارپاکستانیوں کا ہمنوا اوردرددل رکھنے والا شخص تھا جس کے خاندان نے برطانیہ میں اپنے کردارسے اپنا پاکستان اوراسلام کا نام بلند کیا افضال بھٹی کو انتہائی تگ او دو سے پچاس امیدواروں میں سے منتخب کیا گیااور پھر منت سماجت کے بعد راضی کیا گیا کہ وہ اوورسیز کمیشن میں بحیثیت کمشنر خدمات سرانجام دیں ۔افضال بھٹی چونکہ برطانیہ میں پیداہوئے اوران کا کاروباراس قدر وسیع تھا کہ ان کا ایک ایک منٹ انتہائی قیمتی تھا لیکن بوڑھی ماں کہ اصرار پر میاں محمد شہبازشریف کہ حکم پر انکار نہ کرسکے اوربوڑھی ماں بہن بھائیوں کو خیر آبادکہہ کر پاکستان کہ شہر لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کہ ساتھ پاکستان کی خدمت کے لیے اپنا گھر بسا لیا اوورسیز پاکستانی اس بات کہ گواہ ہیں کہ کمین نے اشفاق بھٹی کی سربراہی میں دن رات کام کیا اورہزاروں اوورسیز کو انصاف دلوایا ادارے کو اس قدرمضبوط بنایا کہ ستر سال سے قابض افرادبھاگ گئے اورحق دارکو حق دیا افضال بھٹی نے برطانیہ میں اپنی پانچ منزلہ عمارت بھی برطانیہ و یورپ میں اکاؤنٹس کا کاروبارشروع کیا ااور ہر فلور پر پچاس ملازمین بروقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں تعلیم کے شعبے میں انہوں نے دن رات کام کیا اوریورپ و برطانیہ میں کالجز کا قیام عمل میں لایا آپ نے ہمیشہ عوام و پاکستان کو دل وجان سے چاہا اورہمیشہ ان کی خدمت کی لیکن افسوس آج افضال بھٹی کو بھی عدالت کہ کٹہرے میں کھڑاکردیاگیا جو شخص دس دس لاکھ اپنے ملازمین کو تنخواہ دیتا ہو اس سے سوال کیاجارہاہے کہ بتاؤ تم پانچ لاکھ تنخواہ کے حق دار کیسے ہو؟اورپھر اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا جیسے کوئی مجرم ہو کیا پاکستان میں قتل وغارت گری کرنے والوں کے نام ای سی ایل میں موجودہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔آج چیف جسٹس نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بھی فیصلہ کررکھاہے لیکن اوورسیز پاکستانی پاکستان میں کام نہیں کرسکتا وہاں رہ کر اپنے ملک کی خدمت نہیں کرسکتا تو اسے ووٹ کا حق دینے کا کیا مقصدہے؟آج اوورسیز پاکستانی سخت مایوسی کا شکار ہے کیونکہ اس کہ خاندان کے افراد ان کہ روٹس وہاں موجود ہیں لیکن عدالتی رویے سے ایسای محسوس ہونے لگا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے ملک پاکستان میں کوئی جگہ نہیں وہ یہ مت سوچیں کہ یہ ان کا ملک ہے یا وہ اپنے ملک کی خدمت کرنے کی اجازت رکھتے ہیں عدالت کہ رویے نے بہت سارے سوالیہ نشان چھوڑدئیے آج ایک مرتبہ پھر اوورسیز پاکستان دل برداشتہ ہوگئے ایک ایک محب وطن دیارغیر میں بسنے والے پاکستانی کو کٹہرے میں کھڑاکیا جاسکتا ہے تو پھر ایک عام آدمی کی وہاں کیا قدرہوگی افضال بھٹی تو برطانیہ میں اپنی خوبصورت زندگی کو خیر آباد کہہ کر پاکستان اوراوورسیز کی محبت میں پاکستان منتقل ہوا لیکن آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈال کر دیارغیر میں بسنے والوں کی حوصلہ شکنی کی گئی چیف جسٹس صاحب زراسوچئے ان پاکستانیوں کی جو اپنے ملک کے نام پر مرمٹنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کا آج کیا حال ہوگا وہ کس قدر مایوس ہوچکے ہیں۔

Attachments area

Waqar Malik

AttachmentsApr 25 (1 day ago)

to me
سر شکریہ ۔ براہ کرم اس کو ایک دفعہ پڑہ کر ان پیج ہر غلطیاں ٹھیک کر دیں

چیف جسٹس صاحب ذراسوچئے۔۔۔تحریر عامر چوہدری

ترقی یافتہ قومیں اپنے شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں اہم کرداراداکرتی ہیں مگرنئے قوانین کے ذریعے انہیں وہ سہولیات فراہم کرتی ہیں جس سے وہ اپنے ملک سے پیار کریں اورملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں پڑوسی ملک بھارت ،ایران ،بنگلہ دیش دیارغیر میں بسنے والے اپنے شہریوں کو اپے ملک میں سرمایہ کاری کرنے اورانہیں اپنے ملک میں کام کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ وہ بیرونی دنیا کی لگژری زندگی سے نکل کر اپنی دھرتی ماں کی خدمت کرسکیں باوثوق ذرائع کے مطابق ہزاروں ڈاکٹرز،انجینئرزاورپڑھا لکھا طبقہ برطانیہ یورپ کوچھوڑکر بھارت چلاگیا جہاں انہیں نہ صرف مکمل سیکورٹی دی جاتی ہے بلکہ انہیں پرکشش سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ ان کا ملک ترقی کرے اوروہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکیں۔جب کہ دوسری طرف پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے کورٹس کچہری میں دھکے لگوائے جاتے ہیں۔ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیاجاتاہے انصاف تو درکنار پاکستان سے ہی مارپیٹ کر باہر نکال دیاجاتا ہے ۔عدالتوں میں انہیں رسوا کیاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی مایوسی کا شکاررہتے ہیں اورپاکستان کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں ماضی کی حکومتوں نے اووسیز پاکستانیوں کو سہانے خواب دکھا ئے لیکن عمل نہ کیا موجودہ حکومت نے اووسیز کمیشن پنجاب کی بنیاد اسی لیے رکھی تاکہ مایوسی کہ شکارطبقہ کو انصاف دلوایاجاسکے اگریہ انصاف کا کام عدالتوں سے ملاہوتاتواووسیز کمیشن کی ضرورت نہ تھی لیکن پنجاب حکومت نے عدالتوں پر سے بوجھ کم کرنے کے لیے اووسیز کمیشن کا قیام عمل میں لایا اوراس کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جو صادق اورامین ہی نہیں سمند رپارپاکستانیوں کا ہمنوا اوردرددل رکھنے والا شخص تھا جس کے خاندان نے برطانیہ میں اپنے کردارسے اپنا پاکستان اوراسلام کا نام بلند کیا افضال بھٹی کو انتہائی تگ او دو سے پچاس امیدواروں میں سے منتخب کیا گیااور پھر منت سماجت کے بعد راضی کیا گیا کہ وہ اوورسیز کمیشن میں بحیثیت کمشنر خدمات سرانجام دیں ۔افضال بھٹی چونکہ برطانیہ میں پیداہوئے اوران کا کاروباراس قدر وسیع تھا کہ ان کا ایک ایک منٹ انتہائی قیمتی تھا لیکن بوڑھی ماں کے اصرار پر میاں محمد شہبازشریف کہ حکم پر انکار نہ کرسکے اوربوڑھی ماں بہن بھائیوں کو خیر آبادکہہ کر پاکستان کہ شہر لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خدمت کے لیے اپنا گھر بسا لیا اوورسیز پاکستانی اس بات کہ گواہ ہیں کہ کمیشن نے افضالُ بھٹی کی سربراہی میں دن رات کام کیا اورہزاروں اوورسیز کو انصاف دلوایا ادارے کو اس قدرمضبوط بنایا کہ ستر سال سے قابض افرادبھاگ گئے اورحق دارکو حق دیا افضال بھٹی ایک کاروباری شخصیت ہیں اور برطانیہ میں اپنی ذاتی پانچ منزلہ عمارت میں اکاؤنٹس کا کاروبارشروع کر رکھا ہے   ااور ہر فلور پر پچیس ملازمین بروقت خدمات سرانجامدے رہے ہیں تعلیم کے شعبے میں انہوں نے دن رات کام کیا اوریورپ و برطانیہ میں کالجز کا قیام عمل میں لایا آپ نے ہمیشہ عوام و پاکستان کو دل وجان سے چاہا اورہمیشہ ان کی خدمت کی لیکن افسوس آج افضال بھٹی کو بھی عدالت کہ کٹہرے میں کھڑاکردیاگیا جو شخص دس دس لاکھ اپنے ملازمین کو تنخواہ دیتا ہو اس سے سوال کیاجارہاہے کہ بتاؤ تم پانچ لاکھ تنخواہ کے حق دار کیسے ہو؟اورپھر اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا جیسے کوئی مجرم ہو کیا پاکستان میں قتل وغارت گری کرنے والوں کے نام ای سی ایل میں موجودہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔آج چیف جسٹس نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بھی فیصلہ کررکھاہے لیکن اوورسیز پاکستانی پاکستان میں کام نہیں کرسکتا وہاں رہ کر اپنے ملک کی خدمت نہیں کرسکتا تو اسے ووٹ کا حق دینے کا کیا مقصدہے؟آج اوورسیز پاکستانی سخت مایوسی کا شکار ہے کیونکہ اس کے خاندان کے افراد پاکستان رہتے ہیں ان کے  روٹس وہاں موجود ہیں لیکن عدالتی رویے سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے ملک پاکستان میں کوئی جگہ نہیں وہ یہ مت سوچیں کہ یہ ان کا ملک ہے یا وہ اپنے ملک کی خدمت کرنے کی اجازت رکھتے ہیں عدالت کہ رویے نے بہت سارے سوالیہ نشان چھوڑدئیے آج ایک مرتبہ پھر اوورسیز پاکستان دل برداشتہ ہوگئے اگر ایک محب وطن دیارغیر میں بسنے والے پاکستانی کو کٹہرے میں کھڑاکیا جاسکتا ہے تو پھر ایک عام آدمی کی وہاں کیا قدرہوگی افضال بھٹی تو برطانیہ میں اپنی خوبصورت زندگی کو خیر آباد کہہ کر پاکستان اوراوورسیز کی محبت میں پاکستان منتقل ہوا لیکن آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈال کر دیارغیر میں بسنے والوں کی حوصلہ شکنی کی گئی چیف جسٹس صاحب زراسوچئے ان پاکستانیوں کے بارے میں جو اپنے ملک کے نام پر مرمٹنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کا آج کیا حال ہوگا وہ کس قدر مایوس ہوچکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow