Don't Miss
graphic2

سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال کر دیا

امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے مسلمان ملکوں پر سفری پابندیوں کے قانون کو جزوی طور پر بحال کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے پناہ گزینوں پر جزوی پابندی عائد کرنے کی درخواست کو بھی منظور کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں اس بات کا دوبارہ جائزہ لیں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے میں چھ مسلمان ممالک پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔

جن ممالک پر پابندی لگائی جانی ہے ان میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔

پیر کے روز سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’بنیادی طور پر اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ (ایگزیکیٹیو آرڈر) ان غیر ملکیوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کا کسی بھی امریکی شخص یا ادارے سے حقیقی تعلق ہے۔‘

’ان افراد کے علاوہ دیگر تمام غیر ملکیوں کو اس حکم نامے پر عمل کرنا ہوگا۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار اینتھونی زرکر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت تصور کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکہ میں کسی بھی اس شخص کے لیے داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگا جن کے امریکہ میں ملازمت، سکول یا رشتہ داروں نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے افراد پر ‘سفری پابندی’ کے ترمیم شدہ حکم نامے کو متعصانہ قرار دیتے ہوئے معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سفری پابندی کی ضرورت ہے۔

اس متنازع پابندی کے خلاف امریکہ بھر میں مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں۔

جنوری میں صدر ٹرمپ کا حکم نامہ ابتدائی طور پر ریاست واشنگٹن اور منی سوٹا میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے مارچ میں ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔ اس کے علاوہ تمام پناہ گزینوں کا داخلہ بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow