Don't Miss
graphic2
منگل کو اپنے الوداعی خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ 2008 میں جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا اس کے مقابلے میں آج امریکہ ایک بہتر اور مضبوط ملک ہے۔ ان کا اشارہ ملک کو معاشی بدحالی سے باہر نکالنے اور صحتِ عامہ کے پروگرام کی طرف تھا جس کا انہوں نے اپنی مہم میں وعدہ کیا تھا۔  صدر اوباما نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں کیوں کہ ان کے بقول اس نظام کا انحصار امریکیوں پر ہے۔ صدر اوباما نے یہ خطاب کرنے کے لیے شکاگو شہر کا انتخاب کیا تھا جہاں سے انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔   منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری سے صرف دس دن قبل باراک اوباما نے ایک ایسا خطاب کیا جس میں انہوں نے سبھی امریکیوں کو مخاطب کیا، ان کو بھی جنہوں نے انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ ڈالا۔  اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تمام امریکیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل نکالے، اور یہ کہ وہ نئی انتظامیہ کو اقتدار کی منقلی کو آسان تر بنائیں گے۔  انہوں نے کہا "یہ سمجھ لیجیے کہ جمہوریت کو یکسانیت کی ضرورت نہیں ہوتی"۔ اُن کے بقول "ہمارے بانیوں نے جھگڑے اور سمجھوتے کیے، اور ہم سے بھی اسی کی توقع کی۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ جمہوریت کو یکجہتی کا ایک بنیادی احساس چاہیے ہوتا ہے۔" باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں، انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ان کے انتخاب کے بعد بہت سے لوگوں کی رائے میں امریکہ نسلی امتیاز کے دور سے آگے نکل گیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ نسل پرستی ابھی بھی "ایک قوی اور تقسیم کرنے والی طاقت ہے" اور زور دیا کہ نسلی امتیاز کے خلاف قوانین کی بالادستی قائم کی جائے۔  صدر اوباما نے کہا کہ خوف کا مقابلہ کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے کمزور ہوتی اقدار کی حفاظت کرنی ہو گی، انہوں نے تشدد کے خاتمے کی اپنی کوششوں، لوگوں کی جاسوسی کرنے کے قوانین اور کیوبا میں فوجی جیل گوانتاناموبے کو بند کرنے کی اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔  اوباما نے کہا "اسی لیے میں نے امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مسترد کیا" اور اس موقع پر شائد اس خطاب میں سب سے زوردار تالیاں بجائی گئیں۔ انھوں نے اقلیتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جدو جہد کو مہاجرین، تارکین وطن، دیہات کے غریب (لوگوں) کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اوباما نے ملک کی سفید فام لوگوں سے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ سیاہ فام امریکیوں کی خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی قوانین کے خاتمے کے پچاس سالوں کے بعد بھی ان کے اثرات باقی ہیں۔ "قطع نظر اس بات کہ ہم کس حیثیت میں کام کر رہے ہیں، ہمیں بھرپور کوشش کرنی ہے۔ ہمیں اس عہد کے ساتھ اس عمل کا آغاز کرنا ہو گا کہ ہمارا ہر ساتھی اس ملک سے اسی طرح محبت کرتا ہے جتنی ہم کرتے ہیں۔ وہ بھی محنت کرنے، اپنے خاندان کو اسی طرح اہم سجھتے ہیں اور ان کے بچے اسی طرح پیار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔" اوباما نے اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی تعداد میں کمی آئی جنہیں صحت کا بیمہ حاصل نہیں ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ کافی نہیں ہے کیونکہ اقتصادی عدم مساوات کی وجہ سے ملک کے جمہوری اصولوں پر زد پڑتی ہے۔ "(ملک کے) ایک فیصد (لوگوں ) کے پاس دولت اور آمدنی (کے ذرائع) کا زیادہ حصہ ہے، شہروں اور دیہاتوں میں کئی اسے لوگ ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔" صدر اوباما نے امریکی فوج سے وابستہ افراد سے کہا کہ بطور مسلح افواج کے’کمانڈر انچیف‘ ذمہ داریوں کا نبھانا اُن کے لیے ایک اعزاز ہے۔ اُنھوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور شام و عراق میں داعش کے خلاف اتحادی فورسز کا جاری آپریشن شامل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب اُنھوں نے اپنا منصب صدارت سنبھالا تھا اس کے مقابلے اب وہ اپنے ملک کے بارے میں زیادہ پراُمید ہیں۔ 2008 میں انتخابی مہم میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ ’’تبدیلی پر ہم یقین رکھتے ہیں‘‘ اپنی مدت صدارت کے اختتام سے قبل الوادعی خطاب میں بھی اُنھوں نے امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ تبدیلی لانے کے لیے اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ بشکریہ خبریں - وائس آف امریکہ

الوداعی خطاب: اوباما کی اتحاد اور جمہوریت میں حصہ لینے کی اپیل

منگل کو اپنے الوداعی خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ 2008 میں جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا اس کے مقابلے میں آج امریکہ ایک بہتر اور مضبوط ملک ہے۔ ان کا اشارہ ملک کو معاشی بدحالی سے باہر نکالنے اور صحتِ عامہ کے پروگرام کی طرف تھا جس کا انہوں نے اپنی مہم میں وعدہ کیا تھا۔  صدر اوباما نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں کیوں کہ ان کے بقول اس نظام کا انحصار امریکیوں پر ہے۔ صدر اوباما نے یہ خطاب کرنے کے لیے شکاگو شہر کا انتخاب کیا تھا جہاں سے انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔   منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری سے صرف دس دن قبل باراک اوباما نے ایک ایسا خطاب کیا جس میں انہوں نے سبھی امریکیوں کو مخاطب کیا، ان کو بھی جنہوں نے انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ ڈالا۔  اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تمام امریکیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل نکالے، اور یہ کہ وہ نئی انتظامیہ کو اقتدار کی منقلی کو آسان تر بنائیں گے۔  انہوں نے کہا “یہ سمجھ لیجیے کہ جمہوریت کو یکسانیت کی ضرورت نہیں ہوتی”۔ اُن کے بقول “ہمارے بانیوں نے جھگڑے اور سمجھوتے کیے، اور ہم سے بھی اسی کی توقع کی۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ جمہوریت کو یکجہتی کا ایک بنیادی احساس چاہیے ہوتا ہے۔” باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں، انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ان کے انتخاب کے بعد بہت سے لوگوں کی رائے میں امریکہ نسلی امتیاز کے دور سے آگے نکل گیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ نسل پرستی ابھی بھی “ایک قوی اور تقسیم کرنے والی طاقت ہے” اور زور دیا کہ نسلی امتیاز کے خلاف قوانین کی بالادستی قائم کی جائے۔  صدر اوباما نے کہا کہ خوف کا مقابلہ کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے کمزور ہوتی اقدار کی حفاظت کرنی ہو گی، انہوں نے تشدد کے خاتمے کی اپنی کوششوں، لوگوں کی جاسوسی کرنے کے قوانین اور کیوبا میں فوجی جیل گوانتاناموبے کو بند کرنے کی اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔  اوباما نے کہا “اسی لیے میں نے امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مسترد کیا” اور اس موقع پر شائد اس خطاب میں سب سے زوردار تالیاں بجائی گئیں۔ انھوں نے اقلیتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جدو جہد کو مہاجرین، تارکین وطن، دیہات کے غریب (لوگوں) کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اوباما نے ملک کی سفید فام لوگوں سے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ سیاہ فام امریکیوں کی خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی قوانین کے خاتمے کے پچاس سالوں کے بعد بھی ان کے اثرات باقی ہیں۔ “قطع نظر اس بات کہ ہم کس حیثیت میں کام کر رہے ہیں، ہمیں بھرپور کوشش کرنی ہے۔ ہمیں اس عہد کے ساتھ اس عمل کا آغاز کرنا ہو گا کہ ہمارا ہر ساتھی اس ملک سے اسی طرح محبت کرتا ہے جتنی ہم کرتے ہیں۔ وہ بھی محنت کرنے، اپنے خاندان کو اسی طرح اہم سجھتے ہیں اور ان کے بچے اسی طرح پیار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔” اوباما نے اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی تعداد میں کمی آئی جنہیں صحت کا بیمہ حاصل نہیں ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ کافی نہیں ہے کیونکہ اقتصادی عدم مساوات کی وجہ سے ملک کے جمہوری اصولوں پر زد پڑتی ہے۔ “(ملک کے) ایک فیصد (لوگوں ) کے پاس دولت اور آمدنی (کے ذرائع) کا زیادہ حصہ ہے، شہروں اور دیہاتوں میں کئی اسے لوگ ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔” صدر اوباما نے امریکی فوج سے وابستہ افراد سے کہا کہ بطور مسلح افواج کے’کمانڈر انچیف‘ ذمہ داریوں کا نبھانا اُن کے لیے ایک اعزاز ہے۔ اُنھوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور شام و عراق میں داعش کے خلاف اتحادی فورسز کا جاری آپریشن شامل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب اُنھوں نے اپنا منصب صدارت سنبھالا تھا اس کے مقابلے اب وہ اپنے ملک کے بارے میں زیادہ پراُمید ہیں۔ 2008 میں انتخابی مہم میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ ’’تبدیلی پر ہم یقین رکھتے ہیں‘‘ اپنی مدت صدارت کے اختتام سے قبل الوادعی خطاب میں بھی اُنھوں نے امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ تبدیلی لانے کے لیے اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ بشکریہ خبریں – وائس آف امریکہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow