Don't Miss
graphic2

ستاون فیصد پاکستانی خواتین برطانوی معاشرے میں غیر فعال،ہر چوتھاکام کرنے والا ٹیکسی ڈرائیورنکلا

لندن(عمران بشیر)برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے میں پاکستانی کمیونٹی سے متعلق کئی ایسے حقائق عیاں ہوئے ہیں جوبحیثیت قوم برطانیہ میں زوال پذیر پاکستانی قوم کاالمیہ ثابت ہوسکتے ہیں۔بی بی سی پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے سنیئر سول سرونٹ ڈیم لوئینز کیسی کو برطانیہ میں مقیم مختلف اقوام کی برطانوی معاشرے میں انضمام کودیکھنے کے لیے ایک سروے کا کہا۔جو ایک سال میں مکمل ہوا۔اس رپورٹ میں برطانیہ میں مختلف ملکوں رنگ و نسل کے رہنے والوں کے درمیان مسائل اورتناؤکی وجوہات جاننا تھا۔ سروے برطانیہ میں آبادپاکستانیوں کے حوالے سے حیران کن اعدادوشمارآئے ہیں۔ان کے مطابق ملک میں سفید فام خواتین کی پچیس فیصد آبادی غیر فعال جبکہ پاکستانی خواتین 57 فیصد غیر فعال ہے ۔کچھ زیادہ اچھاحال پاکستانی مردوں کا بھی نہیں ہے۔ہر چارکام کرنے والے پاکستانیوں میں سے ایک ٹیکسی ڈرائیورہے ۔برطانیہ میں رہ برطانوی زبان پر عبورنہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی ہر شعبہ ہائے زندگی میں زوال کا شکارہے۔پاکستانی کمیونٹی اپنی کمیونٹی میں کچھ حد سے زیادہ ہی کشش رکھتی ہے جس کی وجہ سے جہاں پاکستان آبادہوں وہیں پاکستانی آبادہونا پسند کرتے ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کا آبادی برطانیہ کے پسماندہ ترین علاقوں میں آبادہیں ۔جس کی وجہ سے ان کا دیگراقوام کے ساتھ میل ملاپ بہت کم ہے ۔چالیس فیصد زیادہ پاکستانی کم آمدن والے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔جس کی بناء پر ان کامعیارزندگی بلند نہیں۔دس سالوں میں پاکستانی کمیونٹی میں چارلاکھ کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 2001 سے 2011 کے اعدادشمارکے مطابق ہے۔یوں تو یہ اعدادوشمارنہایت مایوس کن ہے مگراس کے باوجودپاکستانی کمیونٹی نے اپنی ثقافت اورمذہب سے لگاؤسے رشتہ مضبوط رکھا ۔برطانیہ بھر میں سب سے زیادہ مساجد پاکستانی کمیونٹی نے اپنی محنت کی کمائی سے حصہ ڈال کر تعمیر کیا ۔یہی نہیں برطانوی معاشرے میں برصغیر کے کھانوں کو متعارف کروانے میں بھی بڑاکردارہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سکول اورمسجد نئی نسل کے کردارمیں اپنا حصہ ڈالے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow