Don't Miss
graphic2

شریف خاندان کی دولت کے چرچے اور خرچے

لاہور: شریف خاندان کےاثاثوں اوربڑھتی دولت کا معاملہ موضوع بحث ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سےکسی نہ کسی شکل میں موضوع بحث رہا لیکن پانامہ لیکس کےانکشافات کےبعد اب یہ معاملہ تذکرے سے بڑھ کر تحقیقات کےمطالبے کی شکل اختیار کرگیاہے۔
ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان کےامیرترین گھرانوں میں شریف خاندان کا چوتھا نمبرہے۔ شریف فیملی کےسربراہ میاں شریف مرحوم نےکاروبار کا آغاز انیس سوسنتیس میں اتفاق فاؤنڈری کےنام سےکارخانہ لگاکرکیا جو ستر کی دہائی میں اسٹیل اورانجنئیرنگ کی بڑی انڈسٹری کی شکل اختیار کرگیا۔انیس سوبہتر میں اتفاق فاؤنڈری کوقومی تحویل میں لینے کے بعد میاں شریف نے دبئی میں اسٹیل مل لگائی جو انیس سواسی میں نوےلاکھ ڈالرز میں فروخت کردی گئی اور ان پیسوں سے پاکستان میں اتفاق فاؤنڈری کودوبارہ چلایاگیا۔
اتفاق فاؤنڈری کاپہیہ اتنی تیزی سے گھوما کہ شریف خاندان کی دولت بڑھتی ہی چلی گئی،اس وقت وزیراعظم کے خاندان کی اندرون ملک گیارہ فیکٹریاں، زرعی زمین، فارم ہاؤسز،رائیونڈ،ماڈل ٹاؤن،اسلام آباد اورمری میں رہائش گاہیں ہیں۔ سعودی عرب کی اسٹیل مل اور لندن کے مہنگے فلیٹس بھی اثاثوں میں شامل ہیں۔
شریف فیملی کی جائیدادوں پراعتراضات توپہلےبھی اٹھتے رہے ہیں لیکن پانامہ لیکس نے بیرون ملک اثاثوں کےانکشافات کیےتوسیاست میں ہلچل مچ گئی۔اپوزیشن نے معاملے کو خوب اچھالا۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے فلور پر صفائی بھی پیش کی لیکن تضادات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔آف شور کمپنیوں کی ملکیت پر متضا د بیانات نے معاملے کو مزید گھمبیربنادیا۔
لندن ہائیکورٹ کی انیس سو ننانوے کی عدالتی کاروائی کےمطابق حدیبیہ پیپرملز کےلیے التوفیق انویسٹمنٹ فنڈ سےلندن کی چار پراپرٹیز خریدی گئیں اور چاروں وہی پارک لین کےفلیٹس ہیں جنکے نمبرسولہ،سولہ اے،سترہ اور سترہ اے ہیں ۔ برطانیہ کےآفیشل اعدادوشمار کےمطابق یہ فلیٹس انیس سوترانوے اور پچانوے میں خریدےگئےلیکن شریف خاندان اس سے انکاری ہے۔
شریف خاندان کی سیاست پر گہری نظررکھنے والے سیاسی تجزیہ کاربھی ان متضاد بیانات پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتےہیں ۔ اگر شریف فیملی پر لگنےوالے کرپشن کے الزامات کی بات کی جائےتو نوے کی دہائی میں مسلم کمرشل بینک کی نجکاری،اصغرخان کیس،منی لانڈرنگ اور اب پنجاب حکومت کی بنائی گئی میٹرو بس سروس،نندی پورپاورپروجیکٹ کی باتیں زبان زد عام ہیں۔
اتفاق فاؤنڈری تو اب شریف خاندان کی ملکیت میں نہیں ہےلیکن اس ایک فیکٹری سے کئی فیکٹریاں اوربیرون ملک اثاثے ضرور بنالیےگئےہیں۔جس کی شفاف تحقیقات کےلیے اپوزیشن جماعتیں نہ صرف پارلیمنٹ میں بلکہ سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں۔وزیراعظم نوازشریف نےخود کو احتساب کےلیے پیش توکردیا لیکن معاملہ قومی اسمبلی کی ٹی او ار کمیٹی سے اگےنہیں بڑھ سکا ہے۔
دولت جائز طریقے سے کمائی یاکرپشن کےذریعے اس کی تحقیقات تو متعلقہ اداروں نے کرنا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ شریف خاندان کےاس معاملے پر متضاد بیانات سے شکوک وشبہات ضرور جنم لےرہےہیں۔

بشکریہ سماء ڈاٹ ٹی وی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow